تحقیق · Pakistan Journal of Psychological Research، 2026
بچپن کا صدمہ، جذبات پر قابو میں دشواری اور بارڈر لائن پرسنلٹی کی علامات
اردو ترجمہ: بچپن کا صدمہ اور جذبات پر قابو میں دشواری: یونیورسٹی طالبات میں بارڈر لائن پرسنلٹی کی علامات کی پیش گوئی۔ اصل مقالہ انگریزی میں ہے۔
مختصراً: اسلام آباد اور راولپنڈی کی 200 یونیورسٹی طالبات میں سے جن طالبات نے بچپن کے زیادہ صدمات اور جذبات پر قابو پانے میں زیادہ دشواری کا ذکر کیا، ان میں بارڈر لائن پرسنلٹی کی علامات بھی زیادہ پائی گئیں۔ ان علامات کی سب سے مضبوط پیش گوئی جذبات پر قابو میں دشواری سے ہوئی۔ دونوں عوامل مل کر بارڈر لائن علامات میں پائے جانے والے فرق کا 43.4 فیصد واضح کرتے ہیں۔ تحقیق کوریلیشنل تھی، اس لیے یہ تعلق دکھاتی ہے، وجہ نہیں۔
اہم اصطلاحات کا مطلب
- بچپن کا صدمہ (Childhood trauma، چائلڈ ہڈ ٹراما)
- بچپن میں جسمانی، جنسی یا جذباتی زیادتی، اور جذباتی یا جسمانی طور پر نظر انداز کیا جانا۔ اس تحقیق میں استعمال ہونے والا سوالنامہ (CTQ) یہی پانچ پہلو ناپتا ہے۔
- جذبات پر قابو میں دشواری (Emotional dysregulation، ایموشنل ڈس ریگولیشن)
- اپنے جذبات کو پہچاننے، قبول کرنے اور سنبھالنے میں دشواری، یعنی کسی جذبے کی شدت یا دورانیے کو مناسب طریقوں سے کم نہ کر پانا۔ اس کی وجہ سے پریشانی کی حالت میں خود پر قابو رکھنا اور کام پر توجہ دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ بذاتِ خود کوئی بیماری یا تشخیص نہیں۔
- بارڈر لائن پرسنلٹی کی علامات (Borderline personality symptoms)
- جیسے جلد بازی میں فیصلے، مزاج میں تیز اتار چڑھاؤ، چھوڑ دیے جانے کا خوف، غیر مستحکم تعلقات، خود اعتمادی کی کمی، خود کو نقصان پہنچانا، اندر کا مستقل خالی پن اور شدید غصہ۔ ان میں سے کچھ علامات ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر (BPD) ہے؛ اس کی تشخیص صرف مستند ماہر ہی کر سکتا ہے۔
ہم نے کیا پوچھا
کیا بچپن کا صدمہ (چائلڈ ہڈ ٹراما) اور جذبات پر قابو میں دشواری (ایموشنل ڈس ریگولیشن) پاکستان میں یونیورسٹی کی نوجوان طالبات میں بارڈر لائن پرسنلٹی کی علامات کی پیش گوئی کرتے ہیں؟ یہ تحقیق رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، اسلام آباد میں اپلائیڈ سائیکالوجی کے میرے بی ایس ریسرچ تھیسس پر مبنی ہے، جس پر A+ گریڈ ملا۔
کون شامل تھا
- 18 سے 25 سال کی 200 انڈرگریجویٹ طالبات (59.5 فیصد 18 سے 21 سال، 40.5 فیصد 22 سے 25 سال)
- اسلام آباد اور راولپنڈی کی یونیورسٹیاں
- مقصدی نمونہ بندی (purposive sampling)؛ غیر کلینیکل نمونہ، یعنی مریض نہیں بلکہ عام طالبات۔ جن طالبات نے کسی تشخیص شدہ نفسیاتی بیماری کا بتایا، انہیں شامل نہیں کیا گیا
- تمام سوالنامے انگریزی میں تھے؛ ڈیٹا تقریباً ڈیڑھ مہینے میں جمع ہوا
ہم نے کیسے ناپا
| کیا ناپا | سوالنامہ | سوالوں کی تعداد | اس تحقیق میں اعتبار (α) |
|---|---|---|---|
| بچپن کا صدمہ | Childhood Trauma Questionnaire (CTQ), Bernstein et al., 2003 | 28 | .74 |
| جذبات پر قابو میں دشواری | Difficulties in Emotion Regulation Scale (DERS), Gratz & Roemer, 2004 | 36 | .82 |
| بارڈر لائن پرسنلٹی کی علامات | Borderline Personality Questionnaire (BPQ), Poreh et al., 2006 | 80 | .89 |
- کراس سیکشنل کوریلیشنل ڈیزائن، تجزیہ IBM SPSS 26 میں پیئرسن کوریلیشن اور ریگریشن سے
- شرکاء سے باقاعدہ رضامندی لی گئی، جذباتی طور پر مشکل سوالات سے پہلے انہیں خبردار کیا گیا، وہ کوئی بھی سوال چھوڑ سکتی تھیں یا کسی بھی وقت حصہ لینا بند کر سکتی تھیں، اور انہیں کونسلنگ کی سہولت کے بارے میں بتایا گیا
ہمیں کیا ملا
| عامل | وضاحت شدہ فرق | p |
|---|---|---|
| صرف بچپن کا صدمہ | 19.8% | .004 |
| صرف جذبات پر قابو میں دشواری | 29.4% | < .001 |
| دونوں مل کر | 43.4% |
- تینوں کا آپس میں مثبت تعلق تھا۔ جذبات پر قابو میں دشواری کا بارڈر لائن علامات سے مضبوط مثبت تعلق تھا (p < .001)۔
- بچپن کے صدمے اور جذبات پر قابو میں دشواری کا درمیانے درجے کا تعلق تھا (p = .007)۔
- بارڈر لائن پرسنلٹی کی علامات کی سب سے مضبوط پیش گوئی جذبات پر قابو میں دشواری سے ہوئی۔
کیا بچپن کا صدمہ بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر کی وجہ بنتا ہے؟
یہ تحقیق اس کا جواب نہیں دے سکتی۔ اس میں طالبات کی علامات ایک وقت پر ناپی گئیں، باقاعدہ تشخیص شدہ بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر نہیں۔ یہ دکھاتی ہے کہ صدمہ اور جذبات سنبھالنے میں دشواری، بارڈر لائن کی زیادہ علامات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، اور جذبات سنبھالنے کی دشواری سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ جذبات پر قابو پانے کی مہارت پر کام کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
کیا ایموشنل ڈس ریگولیشن اور بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر ایک ہی چیز ہیں؟
نہیں۔ جذبات پر قابو میں دشواری ایک کیفیت ہے، تشخیص نہیں، اور یہ کئی مسائل میں نظر آتی ہے، جیسے بے چینی، پی ٹی ایس ڈی اور بائی پولر ڈس آرڈر، اور بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر میں بھی۔ بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر ایک وسیع اور دیرپا کیفیت ہے جس کی تشخیص ماہر کرتا ہے۔ اس تحقیق میں دونوں عوامل میں سے بارڈر لائن علامات کی زیادہ مضبوط پیش گوئی جذبات پر قابو میں دشواری سے ہوئی۔
تحقیق کی حدود
- صرف خواتین، اور غیر کلینیکل نمونہ، اس لیے ممکن ہے کہ نتائج مردوں یا مریضوں پر لاگو نہ ہوں۔
- سوالناموں میں اپنے جوابات خود دیے گئے، جن پر یادداشت اور سماجی طور پر قابلِ قبول جواب دینے کی خواہش اثر ڈال سکتی ہے۔
- بچپن کے صدمے کی شدت اور اقسام کو الگ الگ نہیں ناپا گیا۔
عملی طور پر اس کا مطلب
ہماری سفارش ہے کہ یونیورسٹیوں میں ثقافتی طور پر حساس اور صدمے سے آگاہ (ٹراما انفارمڈ) طریقۂ کار اپنایا جائے، اور نوجوانوں کو جذبات پر قابو پانے کی تربیت دی جائے۔ آئندہ تحقیق میں زیادہ متنوع نمونے، ناپنے کے ایک سے زیادہ طریقے، اور صدمے کی شدت کے فرق کو شامل کیا جائے۔
یہ صفحہ شائع شدہ تحقیق کا خلاصہ ہے۔ یہ تشخیص یا طبی مشورہ نہیں۔ اگر آپ مشکل میں ہیں تو کسی مستند ماہرِ نفسیات یا معالج سے بات کریں۔
سوالات
کیا بچپن کا صدمہ بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر کی وجہ بنتا ہے؟
یہ تحقیق وجہ ثابت نہیں کر سکتی۔ یہ کوریلیشنل تھی اور اس میں طالبات کی علامات ناپی گئیں، باقاعدہ تشخیص نہیں۔ اس میں بچپن کے صدمے کا تعلق بارڈر لائن پرسنلٹی کی زیادہ علامات سے پایا گیا، اور اکیلے بچپن کے صدمے نے ان علامات کے فرق کا 19.8 فیصد واضح کیا۔
کیا ایموشنل ڈس ریگولیشن اور بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر ایک ہی چیز ہیں؟
نہیں۔ ایموشنل ڈس ریگولیشن کا مطلب ہے جذبات کو پہچاننے، قبول کرنے اور سنبھالنے میں دشواری۔ یہ کئی مسائل میں پائی جاتی ہے، جیسے بے چینی، پی ٹی ایس ڈی، بائی پولر ڈس آرڈر اور بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر۔ بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر کی تشخیص صرف مستند ماہر ہی کر سکتا ہے۔ اس تحقیق میں بارڈر لائن علامات کی سب سے مضبوط پیش گوئی ایموشنل ڈس ریگولیشن سے ہوئی۔
اس تحقیق کے نتائج کیا تھے؟
اسلام آباد اور راولپنڈی کی 200 یونیورسٹی طالبات میں بچپن کے صدمے نے بارڈر لائن پرسنلٹی کی علامات کے فرق کا 19.8 فیصد، جذبات پر قابو میں دشواری نے 29.4 فیصد، اور دونوں نے مل کر 43.4 فیصد واضح کیا۔
مصنفین
Ujala Tahseen, Urooj Tara, Eiman Waheed, Muskan Rasheed, Manahil Naveed, Maryam Zahra. Riphah International University, Islamabad.
حوالہ
APA 7
Tahseen, U., Tara, U., Waheed, E., Rasheed, M., Naveed, M., & Zahra, M. (2026). Childhood trauma and emotional dysregulation as predictors of borderline personality symptoms among female university students. Pakistan Journal of Psychological Research, 41(1), 143–164. https://doi.org/10.33824/PJPR.2026.41.1.09
مقالہ پڑھیں (انگریزی): doi.org/10.33824/PJPR.2026.41.1.09 · جریدے کا صفحہ · BibTeX اور مزید تفصیل: انگریزی صفحہ
میرے بارے میں
میں نفسیات کی گریجویٹ ہوں اور SZABIST یونیورسٹی، اسلام آباد سے کلینیکل سائیکالوجی میں ایم ایس کر رہی ہوں۔ اب میں یہی عادتیں (غور سے پڑھنا، طے شدہ معیار پر اسکور دینا، ذرائع جانچنا) اے آئی کے جوابات جانچنے میں استعمال کرتی ہوں، خاص طور پر ذہنی صحت جیسے حساس موضوعات پر۔ میرے بارے میں مزید۔